چولہے ٹھنڈے، بچے بھوکے، ایف بی ایریا بلاک 14 میں ہفتہ بھر سے گیس غائب

چولہے ٹھنڈے، بچے بھوکے، ایف بی ایریا بلاک 14 میں ہفتہ بھر سے گیس غائب

کراچی کے علاقے ایف بی ایریا نصیرآباد بلاک 14 کے مکین گزشتہ ایک ہفتے سے گیس کی عدم فراہمی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ خواتینِ خانہ گھنٹوں چولہے کے سامنے بیٹھ کر گیس کا انتظار کرتی رہتی ہیں مگر گیس نہیں آتی۔ دوپہر اور رات کے کھانا تو دور کی بات بچے ناشتہ بھی نہیں کر پا رہے۔

ایف بی ایریا نصیرآباد بلاک 14 کے گیس متاثرین مجبور ہو کر ہوٹلوں سے کھانا لانے پر مجبور ہیں۔ ان کہنا ہے کہ ہوشربا مہنگائی میں ہر روز ہوٹل سے کھانا لانے کے اخراجات اٹھانا عام آدمی کی محدود آمدنی میں ممکن نہیں۔ ہمارہ تنخواہ اتنی نہیں کہ روز ہوٹل سے کھانا لائیں۔ بچے پوچھتے ہیں کھانا کب بنے گا، ہم کیا جواب دیں۔

ایف بی ایریا نصیرآباد بلاک 14 کے گیس متاثرین نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ہیلپ لائن نمبر 1199 پر بارہا شکایات درج کروائیں لیکن ہر بار یہی رٹا رٹایا جواب ملا کہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مسئلہ حل کر دیا جائے گا مگر پورا ہفتہ گزر جانے کے باوجود نہ کوئی ٹیم موقع پر پہنچی، نہ کوئی افسر اور نہ گیس بحال ہوئی۔

ایف بی ایریا نصیرآباد بلاک 14 کے مکینوں نے وزیرِ پیٹرولیم سے پُرزور اپیل کی ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کراچی کی مسلسل غفلت اور صارفین کی شکایات سے بے اعتنائی کا سخت نوٹس لیا جائے۔ گیس متاثرین نے مطالبہ کہا کہ سوئی سدرن گیس کی جانب صارفین کی شکایات پر غفلت برتنے پر ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کی غفلت کا سدِباب ہو سکے۔ فیلڈ ٹیمیں 24 گھنٹے کے اندر علاقے میں بھیجی جائیں اور گیس کی فراہمی فی الفور بحال کی جائے۔ شکایتی نظام کو محض کاغذی خانہ پُری کے بجائے عملی اور مؤثر شکل دی جائے تاکہ شہریوں کی فریاد دفتری فائلوں میں دفن نہ ہو۔ گیس متاثرین نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ایس ایس جی سی کے افسران اور عملے میں احساسِ ذمہ داری پیدا کیا جائے تاکہ وہ صرف تنخواہیں وصول کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے فرائضِ منصبی بھی ایمانداری سے ادا کریں۔

News Desk
+ posts