کراچی: لسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ آئندہ بجٹ 2026-27 میں ٹیکس، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کی پالیسیوں میں جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ، سرمایہ کاری اضافہ اور تاجر برادری کا اعتماد بحال ہو۔پاکستان کی معاشی بحالی ایک مسابقتی، مستحکم اور سازگار کاروباری ماحول کے قیام سے مشروط ہے۔ ایل سی سی آئی کی سفارشات حکومت کے اعلان کردہ صنعتی فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اہداف کے ہم آہنگ ہیں جس میں افراطِ زر اور مالیاتی خسارے میں کمی کے واضح اہداف کے ساتھ کثیر سالہ میکرو اکنامک استحکام کے فریم ورک اور پالیسی مستقل مزاجی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے شفاف زرمبادلہ پالیسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے لسبیلہ چیمبر نے ایڈہاک ٹیکس اقدامات کے فوری خاتمے، کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں بتدریج کمی کر کے انہیں علاقائی ممالک کے برابر لانے، ودہولڈنگ ٹیکسز کو معقول بنانے اور ٹیکس نظام کو سادہ اور آسان بنانے کی درخواست کی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے مقررہ مدت میں ٹیکس تنازعات کے حل کا مؤثر نظام متعارف کرانے پر بھی زور دیا گیا نیز براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی حوصلہ افزائی کے لیے برآمدی صنعتوں، ویلیو ایڈیشن مصنوعات، دواسازی، ایگرو پروسیسنگ اور معدنیات کی ویلیو ایڈیشن صنعتوں کے لیے خصوی مراعات دینے کی تجویز دی اور ساتھ ہی بڑے سرمایہ کاری منصوبوں کے لیے فاسٹ ٹریک ون ونڈو منظوری کا نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایل سی سی آئی نے توانائی کے بلند اخراجات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسابقتی طویل مدتی بجلی خریداری معاہدوں، کمزور صنعتی یونٹس کے لیے بروقت سبسڈیز اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو تیزی سے اپنانے کی سفارش کی تاکہ صنعتی و تجارتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: چولہے ٹھنڈے، بچے بھوکے، ایف بی ایریا بلاک 14 میں ہفتہ بھر سے گیس غائب
لسبیلہ چیمبر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ڈیوٹی ڈرا بیک اور ٹیکس ریفنڈز کے نظام کو تیز تر بنایا جائے، بندرگاہوں اور کسٹمز آپریشنز کو ڈیجیٹلائزیشن اور 24 گھنٹے خدمات کے ذریعے جدید بنایا جائے اور اہم تجارتی شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی مارکیٹ رسائی کے معاہدوں کو آگے بڑھایا جائے تاکہ برآمدات کو فروغ مل سکے۔مالیاتی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے چیمبر نے کریڈٹ گارنٹی اسکیموں، برآمد کنندگان کے لیے ری فنانس سہولیات، ایس ایم ایز اور گرین فنانسنگ کے آلات کی وسیع دستیابی کی تجویز دی۔
مزید برآں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ایس ایم ای انکیوبیٹرز، صنعتی کلسٹرز کی ترقی اور خصوصی صنعتی زونز کے قیام کے لیے مخصوص فنڈز مختص کیے جائیں اور زمین کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار کو آسان اور شفاف بنایا جائے۔ایل سی سی آئی نے افرادی قوت کی مہارت کو بڑھانے اور ٹیکنالوجی کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ملازمین کے لیے تربیتی پروگرامز کے لیے ٹیکس کریڈٹس، صنعت و جامعات کے مشترکہ تحقیقی گرانٹس اور آٹومیشن و ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے مراعات کی سفارش کی۔
لسبیلہ چیمبر نے براڈ بینڈ انفراسٹرکچر میں سرکاری سرمایہ کاری بڑھانے، ماحول دوست اور ڈیجیٹل اقدامات کے لیے ٹیکس مراعات اور سپلائرز و ایس ایم ای ٹھیکیداروں کو بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے لیے سرکاری خریداری کے طریقہ کار میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔مزید برآں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تمام اہم مالیاتی اقدامات کے اثرات سے متعلق جائزہ رپوٹس شائع کرے اور صنعتی معاونت کے پروگرامز کی افادیت اور شفافیت بڑھانے کے لیے نتائج پر مبنی بجٹ سازی کا نظام اپنائے۔





