
اسلام آباد: وفاقی وزارت مواصلات میں گزشتہ دو برس سے مستقل سیکرٹری کی عدم تعیناتی کے باعث سرکاری امور میں تسلسل اور فیصلہ سازی کے عمل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر مبنی یہ اہم وزارت عبوری انتظامات پر چلائی جا رہی ہے۔
علی شیر محسود، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے افسر، نومبر 2023 سے بطور سیکرٹری مواصلات “دیکھ بھال” (Look-after) کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ اگست 2023 میں نگران حکومت کی جانب سے اسپیشل سیکرٹری مواصلات مقرر کیے گئے تھے، جہاں ان کی ذمہ داریاں بنیادی طور پر پاکستان پوسٹل سروسز کے شعبے تک محدود تھیں۔ بعد ازاں اُس وقت کے سیکرٹری مواصلات، کیپٹن (ر) خرم آغا کی وزیراعظم آفس میں تقرری کے بعد، علی شیر محسود کے دائرہ کار میں وسعت دی گئی۔
ذرائع کے مطابق علی شیر محسود کو پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کے اختیارات تو دے دیے گئے ہیں، تاہم اُن کی جانب سے مستقل سیکرٹری مواصلات کی تقرری یا چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) جیسے اہم عہدوں کے حصول کی متعدد کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ان کے ماضی کے کچھ معاملات ان کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، علی شیر محسود بطور ممبر ایڈمنسٹریشن نیشنل ہائی وے اتھارٹی خدمات انجام دے چکے ہیں، تاہم اس دوران ان پر اختیارات کے غلط استعمال اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے، جس پر انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ علاوہ ازیں، نیشنل اکاؤنٹیبلیٹی بیورو (نیب) کی جانب سے بھی ان کے خلاف مختلف تحقیقات کی گئی ہیں، جن میں اسلام آباد-پشاور موٹروے (M-1) پر سروس ایریا کی غیرقانونی نگرانی اور فاٹا ڈائریکٹوریٹ میں ایک ارب روپے کے سولر پاور منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں کی انکوائری شامل ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ علی شیر محسود کو دو بار – تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کے ادوار میں – ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ نے گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں ترقی دینے سے روک دیا، اور اس کی وجہ متعلقہ اداروں کی جانب سے ان کی ساکھ سے متعلق بعض تحفظات بتائے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے۔ نطابق علی شیر محسودکا اس حوالے سے موقف ہے کہ مستقل سیکرٹری کی تقرری وفاقی حکومت کا استحقاق ہے، اور وہ اس عمل میں شامل نہیں۔
وزارت مواصلات کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنے اہم اور حساس نوعیت کے عہدے پر طویل عرصے سے مستقل تقرری نہ ہونا انتظامی معاملات میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے، جس سے نہ صرف ترقیاتی منصوبوں بلکہ بین الاقوامی معاہدوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
Sohail Majeed is a Special Correspondent at The Diplomatic Insight. He has twelve plus years of experience in journalism & reporting. He covers International Affairs, Diplomacy, UN, Sports, Climate Change, Economy, Technology, and Health.





![logo-1[1]](https://globalnewspakistan.com/wp-content/uploads/2025/01/logo-11-e1737618310315-300x187.png)