ماسکو (جی این پی) 18 مئی 2026 کو ماسکو شہر کے ڈونسکوئے قبرستان میں تاجکستان کے ہیروز نصرت اللہ مخسوم، شیرین شاہ شاہ تیمور اور تاجک قوم کے ممتاز فرزند نثار محمد کی قبروں سے حاصل کی گئی مٹی کے کیپسول وصول کرنے کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ جمہوریہ تاجکستان کے وفد کی قیادت وزیر خارجہ سراج الدین مہرالدین نے کی، جبکہ روسی جانب سے روسی فیڈریشن کے نائب وزیر خارجہ میخائل گالوزین اور بین الاقوامی ثقافتی تعاون کے لیے روسی صدر کے خصوصی نمائندے میخائل شویڈکوئے نے شرکت کی۔ اس موقع پر تاجکستان اور روس کے اعزازی گارڈز کے دستے بھی موجود تھے۔
یہ اقدام تاجک قوم کے رہنما اور جمہوریہ تاجکستان کے صدر محترم امام علی رحمان کی براہِ راست ہدایات پر عمل میں لایا گیا، تاریخی انصاف کی بحالی اور قومی یادداشت کے تحفظ کے لیے ریاستی پالیسی کے اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ عمل ان تاریخی شخصیات کی روحانی طور پر وطن واپسی کی علامت بھی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں عوام کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔ یاد رہے کہ ہیرو نثار محمد کا بنیادی تعلق پاکستان کے شہر پشاور سے ہے وہ پشاور میں پیدا ہوئے
وزیر خارجہ سراج الدین مہرالدین نے
اپنے خطاب میں
کہا کہ نصرت اللہ مخسوم اور شیرین شاہ شاہ تیمور نے 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں غیر معمولی سیاسی بصیرت اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاجک قوم کے حقِ خود ارادیت اور ترقی کے لیے جدوجہد کی۔ نثار محمد نے ریاست کی ثقافتی اور تعلیمی بنیادوں کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا، جبکہ ان کی تعلیمی خدمات نے ملک کے نظامِ تعلیم کی ترقی میں اہم حصہ ڈالا۔
انہوں نے کہا کہ ان عظیم شخصیات کے نظریات اور خدمات وقت کی کسوٹی پر پورا اترے ہیں۔ انہی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں جمہوریہ تاجکستان کے صدر محترم امام علی رحمان کے صدارتی فرامین کے ذریعے نصرت اللہ مخسوم اور شیرین شاہ شاہ تیمور کو بعد از وفات “ہیرو آف تاجکستان” کے اعلیٰ ترین قومی اعزاز سے نوازا گیا۔
وزیر خارجہ نے جمہوریہ تاجکستان کی حکومت کی جانب سے روسی حکومت، ماسکو سٹی انتظامیہ اور اس عظیم مشن کے انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمیشن میں معرکہ حق کی پہلی سالگرہ منائی گئی
اپنی تقاریر میں میخائل گالوزین اور میخائل شویڈکوئے نے اس اقدام کو تاریخی انصاف کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے تاجکستان کے ان رہنماؤں کی سوویت یونین کے اندر تاجک جمہوریہ کے قیام میں گراں قدر خدمات کو سراہا اور کہا کہ ان ہیروز کی مٹی کی وطن واپسی تاجکستان اور روس کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گی اور دوستانہ و اتحادی روابط کو گہرا کرے گی۔
تاجکستان کے ہیروز کی قبروں سے حاصل کی گئی مٹی کے کیپسول 19 مئی 2026 کو دوشنبے پہنچا دیے گئے، جہاں انہیں قومی یادگاری کمپلیکس کا حصہ بنایا جائے گا۔ یہ یادگار نسلوں کے تسلسل اور ملک کے تاریخی ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان مضبوط تعلق کی علامت ہوگی۔

