پاکستان میں 3 سال میں 79 نئی غیر ملکی کمپنیاں، 40.7 ارب روپے کی سرمایہ کاری

اسلام آباد : سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران مجموعی طور پر 79 نئی غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستانی مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز کیا، جبکہ 61 غیر ملکی کمپنیوں نے شئیرز کی ٹرانزیکشن کیں۔ اس عرصے کے دوران مقامی کمپنیوں کے ساتھ توانائی، لاجسٹکس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت کے شعبوں میں شراکت داری کے لیے غیر ملکی کمپنیوں نے 40.7 ارب روپے کی فارن ڈاءریکٹ انوسٹمنٹ کی۔

غیر ملکی کمپنیوں کی شیئر ہولڈنگ سے متعلق 61 ٹرانزیکشنز میں سے 29 کمپنیوں نے اپنے حصص دیگر غیر ملکی کمپنیوں کو منتقل کیے، 4 کمپنیوں نے حصص غیر ملکی انفرادی سرمایہ کاروں کو فروخت کیے، 20 کمپنیوں نے مقامی انفرادی سرمایہ کاروں کو شیئرز منتقل کیے جبکہ 8 غیر ملکی کمپنیوں نے اپنے حصص مقامی کمپنیوں کے نام کیے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ ان میں سے متعدد ٹرانزیکشنز عالمی سطح پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی کارپوریٹ تنظیمِ نو (ری اسٹرکچرنگ) کے نتیجے میں ہوئیں۔ سعودی عرب کی وافی انرجی نے شیل کے عالمی پورٹ فولیو کی تنظیمِ نو کے تحت شیل پاکستان کے آپریشنز حاصل کیے، جبکہ دبئی میں قائم پی ٹی اے گلوبل ہولڈنگ نے لوٹے کیمیکل اور ٹوٹل انرجیز کے عالمی معاہدے کے بعد لوٹے کیمیکل پاکستان کے اکثریتی حصص حاصل کیے۔

اسی طرح سوئٹزرلینڈ کے گنوور گروپ اور ٹوٹل پارکو لمیٹڈ نے ٹوٹل انرجیز پاکستان میں مساوی حصص حاصل کیے، جبکہ سعودی آرامکو نے گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ (گو پیٹرولیم) میں 40 فیصد ایکویٹی خریدی۔

لاجسٹکس کے شعبے میں متحدہ عرب امارات کی ڈی پی ورلڈ نے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کے ساتھ جوائنٹ وینچر کیا۔ ڈیجیٹل سیکٹر میں بازار ٹیکنالوجیز نے ویم سول کو حاصل کیا جبکہ سعودی واقب ڈیٹا کمپنی نے پاکستانی ٹیکنالوجی فرم “ووٹ ٹیک” میں 80 فیصد شیئر ہولڈنگ حاصل کی۔

ٹیلی کام کے شعبے میں پی ٹی سی ایل نے عالمی سطح پر ٹیلی کام انڈسٹری میں ہونے والی تنظیم نو کے نتیجے میں ٹیلی نار پاکستان کے آپریشنز حاصل کیے۔ فارماسیوٹیکل سیکٹر میں امریکی کمپنی فائزر نے کراچی میں اپنا مینوفیکچرنگ پلانٹ اور متعلقہ اثاثے لکی کور انڈسٹریز کو منتقل کیے، جبکہ فرانسیسی کمپنی سانوفی نے اپنے اکثریتی حصص مقامی سرمایہ کار کنسورشیم کو فروخت کر دیے اور کمپنی کا نام تبدیل کر کے ہوئسٹ پاکستان لمیٹڈ رکھ دیا گیا۔
زرعی شعبے میں اٹلی کی یوریکم نے فاطمہ یوریکم رائس ملز میں 50 فیصد حصص حاصل کیے، جبکہ ہالینڈ کی برکلے اسکوائر ہولڈنگ بی وی نے اوگلوی اینڈ ماتھر پاکستان، مائنڈ شیئر پاکستان اور سوہو اسکوائر پاکستان میں 50 فیصد شیئر ہولڈنگ حاصل کی۔

ایس ای سی پی کے مطابق متعدد مزید بین الاقوامی شراکت داری کے معاہدے زیرِ غور یا تکمیل کے مراحل میں ہیں، جو پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔

کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت پاکستان میں رجسٹرڈ فعال غیر ملکی کمپنیوں کی مجموعی تعداد 1,157 ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران صرف 19 غیر ملکی کمپنیوں نے ملک میں اپنے آپریشنز بند کیے۔ سال 2023 میں 31 کمپنیوں نے پاکستان میں کاروبار شروع کیا جبکہ 6 نے اخراج کیا، 2024 میں 21 کمپنیاں داخل ہوئیں اور 9 باہر گئیں، جبکہ 2025 میں 27 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن حاصل کی اور صرف 4 کمپنیوں نے آپریشنز بند کیے۔

ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ یہ رجحان پاکستان کی معیشت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے مسلسل اعتماد اور کاروباری مواقع کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔